ایران کے حالیہ حملوں نے قطر کی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی پیداواری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوحہ: قطر کی توانائی صنعت کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے، جہاں حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ قطر انرجی کے سربراہ سعد الکعبی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے اپنی گہری مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ حملوں کے نتیجے میں ملک کی مجموعی برآمدی صلاحیت کا تقریباً 17 فیصد حصہ ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ گیس تنصیبات کی بحالی میں 3 سے 5 سال کا طویل عرصہ لگ سکتا ہے، جس کے دوران عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سعد الکعبی کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر پر تقریباً 26 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی، اور اب اس نقصان کے باعث قطر کو اپنے بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اٹلی، بیلجیئم، جنوبی کوریا اور چین جیسے بڑے ممالک کو گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف قطر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر میں توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
