سیلاب سے پاکستان کی معاشی ترقی مين کمي ، مہنگائی میں اضافے کا خدشہ، عالمی بینک

by bukharisafdar786@gmail.com

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) — عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے جبکہ مہنگائی میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جب کہ حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے 4.2 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اگلے مالی سال میں شرحِ نمو 3.6 فیصد تک پہنچنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب سمیت کئی زرعی علاقے حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلیں متاثر ہونے سے خوراک کی ترسیل میں بھی رکاوٹ آئی ہے۔

مہنگائی اور مالی خسارہ
عالمی بینک کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی 7 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے جبکہ مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

غربت اور مالی استحکام
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح رواں مالی سال 44 فیصد جبکہ اگلے مالی سال میں 43 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے زور دیا ہے کہ زرعی بحالی، محصولات میں اضافہ اور اخراجات میں کمی سے ہی معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اصلاحاتی منصوبہ اور برآمدات
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں 5 سالہ اصلاحاتی منصوبے کے تحت ٹیرف میں کمی اور زرعی پیداوار کے فروغ کو برآمدات میں اضافے کے لیے کلیدی قرار دیا ہے۔
سیلاب سے برآمدات میں کمی متوقع ہے، تاہم ترسیلات زر اور تیل کی کم قیمتوں سے معاشی توازن ممکن رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Related Posts