نایاب پرندوں کا سرِعام شکار، وائلڈ لائف محکمہ بے خبر

by bukharisafdar786@gmail.com

ہالیہ بارشوں کے بعد ضلع جامشورو اور ٹھٹھہ کے کوہستانی علاقوں جوکیا موڑ، ہٻکان، کارو جبل، سری لویاڇ، جھمپیر، جنگھڑی اور آس پاس کے پہاڑی و میدانی علاقوں میں شکاریوں نے کیمپس قائم کر لیے ہیں، جہاں غیرملکی اور نایاب پرندوں کا کھلے عام شکار جاری ہے، جبکہ انتظامیہ اور وائلڈ لائف محکمہ مکمل طور پر بے خبر نظر آ رہا ہے۔

سرد ملکوں سے ہجرت کر کے آنے والے مہمان پرندے، جو کینجھر جھیل اور اس کے نواحی علاقوں تک پہنچتے ہیں، شکاری آسانی سے جال، کال بیٹریوں اور ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔ شکار شدہ پرندوں کا گوشت ایم نائن موٹروے کے ریسٹورنٹس اور سندھ کے مختلف شہروں میں کولروں کے ذریعے مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔

مقامی بااثر افراد کی مدد سے شکاریوں کے کیمپس کو محفوظ بنایا گیا ہے، جہاں مویشیوں کے داخلے تک کو روک دیا جاتا ہے تاکہ پرندوں کے شکار میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ پہاڑوں میں موجود پانی کے تالابوں پر جال بچھا کر پانی پینے آنے والے پرندوں کو مسلح شکاری بندوقوں سے مار کر ان کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ نایاب پرندوں اور ان کے گوشت کی تصاویر شکاریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کیے جانے کے باوجود بھی انتظامیہ اور وائلڈ لائف محکمہ کسی قسم کی کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے

Related Posts