خیرپورناتھن شاہ شہر منشیات کے زہر میں جکڑا جا رہا ہے۔چرس، شراب، آئیس اور ہیروئن کا آزادانہ کاروبار جاری ہے
خیرپورناتھن شاہ شہر منشیات کے زہر میں جکڑا جا چکا ہے۔جہاں کبھی علم و ادب کی محفلیں سجتی تھیں، آج وہاں چرس، شراب، آئیس اور ہیروئن کا آزادانہ کاروبار جاری ہے۔ یہاں کے نوجوان، جو مستقبل کے معمار تھے، اب نشے کی بھینٹ چڑھ کر اپنی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں۔
شہر کے تاریخی قبرستان، جن میں سید جڑیل شاہ جیلانی اور یقین شاہ جیسے بزرگ مدفون ہیں… آج نشئی افراد کے ٹھکانے بن چکے ہیں۔ یہ مقدس مقامات، جہاں کبھی سکون اور روحانیت کا بسیرا تھا، اب نشے کے ڈیرے اور زوال کی تصویریں پیش کر رہے ہیں۔
خیرپور ناتھن شاہ کی گلیاں ہوں یا بازار، ہر جگہ نشہ آسانی سے دستیاب ہے۔ زہریلی سپاریاں شہر کی بیشتر کیبنوں پر باآسانی فروخت ہو رہی ہیں، جو نوجوان نسل کے لیے موت کا پیغام ثابت ہو رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پولیس اور انتظامیہ خاموش کیوں ہے؟ کیا آنے والی نسل کو تباہی کے حوالے کر دیا گیا ہے؟ کیا ہم اپنے تاریخی ورثے اور علمی پہچان کو زہر کے دھندے میں ڈوبتا دیکھتے رہیں گے؟
سماج، والدین، اساتذہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سب کو مل کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ورنہ تاریخ خیرپور ناتھن شاہ کو ایک ایسے شہر کے طور پر یاد کرے گی جہاں علم اور روحانیت کی جگہ صرف زوال اور تباہی ورثے میں ملی۔