سیاست بند کریں، محکمہ صحت کی جانب سے 41 لاکھ بچیوں کو کینسر کی ویکسین لگانے کا اعلان۔

by bukharisafdar786@gmail.com

سندھ حکومت اور صحت کے ماہرین نے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے شروع کی گئی ویکسین مہم کو 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ اس ویکسین کے خلاف پروپیگنڈا بند کیا جائے۔

گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں صحافیوں اور ان کے 9 سے 14 سال کی بچیوں کو ویکسین لگانے کے لیے دو روزہ کیمپ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ سندھ میں ایچ پی وی کے خلاف 41 لاکھ بچیاں موجود ہیں جنہیں ہم ویکسین لگائیں گے۔ اس وقت ویکسین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وائرس بچہ دانی میں داخل ہونے سے کینسر پیدا ہوتا ہے، ہر سال پانچ ہزار خواتین اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ نئی ویکسین اس وائرس سے بچانے کے لیے جسم میں قوتِ مدافعت پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں 2007 سے یہ ویکسین استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت دعویٰ کرتی ہے کہ یہ ویکسین بچیوں کو بانجھ بنانے کی سازش ہے، میں یقین دلاتی ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ اپنی بچیوں پر رحم کریں، یہ کینسر تکلیف دہ ہے، تشخیص میں تاخیر کے باعث یہاں ہر سال بے شمار خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کے باوجود بھی بڑی تعداد میں خواتین نہیں بچ پاتیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران ہر اسمبلی ممبر نے اپنے حلقے میں افتتاح کیا لیکن کچھ لوگ ذاتی مفادات کی خاطر اس ویکسین کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ یہ ویکسین ہمیں مہنگی ملتی ہے، اس ویکسین کو ملک کے اندر تیار کیا جائے۔ ضروری جدید ٹیکنالوجی لانے کے لیے کسی ملک سے رابطہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف واقعات کی ویڈیوز اس ویکسین سے جوڑ کر پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف ہم نے سائبر کرائم کو لکھا ہے کہ گمراہ کن ویڈیوز پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔